.
.

 
 

 

بزرگ عالم دین آیۃ اللہ باقر النمر کو پھانسی کی سزا پر
سرپرست اعلی سپریم شیعہ علماء بورڈوسربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ آغا سیدحامد علی شاہ موسوی کا
اقوام متحدہ ،انسانی حقوق کے اداروں اور حکمرانوں کے نام کھلا خط
 

منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
 

حضرت انسان کو تمام مخلوقات سے اشرف اورمکرم و محترم گردانا گیا ۔تمام مذاہب و ادیان اور ملل و اقوام انسا ن کی عظمت و رفعت کے قائل ہیں ۔ ذلک الکتاب لا ریب فیہ کا اعزا زکھنے والی سب سے بڑی الہامی کتاب قرآنِ مجیدکا موضوع بھی انسان کو قراردیا گیا ہے۔ اسی سبب ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیاگیا۔

تمام کائنات حضرت انسان کی خدمت کیلئے تخلیق کی گئی اور اللہ نے انسان کو اپنی بندگی کیلئے خلق فرمایا اوربندگی کا تقاضا یہی ہے کہ کسی پر ظلم نہ کیا جائے اور مظلوم کی مدد کی جائے۔اسی لیے مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کا فرمان ہے کہ مظلوم کے دوست اور ظالم کے دشمن بن جاؤ۔

آج پوری دنیا میں انسانیت کی حرمت کو پامال کیا جارہا ہے اور بعض ممالک میں انسانوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا ہے۔ انہی ممالک میں ایک نمایاں نام مملکت السعودیہ العربیہ بھی ہے ۔ جہاں عصبیتیں عروج پر ہیں اور ہرحکومت مخالف کو دردناک اذیت سے گزارا جارہا ہے۔

سعودی عرب کے بادشاہ خادم الحرمین کہلاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں ان کے عقید ے کے علاوہ کسی دوسرے کواپنے عقید ے کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت نہیں۔ جو اپنا نظریہ بیان کرنا چاہے اسے موت کے سفر پر روانہ کردیا جاتا ہے۔شعائر اللہ کی بے حرمتی اور انہیں زمیں بوس کرنا سعودی عرب کا وطیرہ رہا ہے اس وقت بھی حرمین کی وسعت کے نام پر اسلام کے آغاز کی یادگاروں اور آثار نبویہ ؐ کو مسلسل مٹایا جارہا ہے جو مسلمانوں ہی نہیں پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہیں جس پر تمام عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔مشرقی علاقوں میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں 30ہزار سے زائد بے گناہ جیلوں میں بند ہیں لیکن کسی انسانی حقوق کے ادارے کا احتجاج نظر نہیں آتا۔چند دن پہلے 50سے زیادہ لوگوں کو پھانسی دینے کا اعلان کیا گیا ہے جن میں اہل سنت علماء کے علاوہ مشرقی سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ باقر النمر اور ان کے قریبی عزیز علی النمر بھی شامل ہیں۔صرف یہی نہیں جیل میں بزرگ شیعہ عالم دین کو بدترین اذیتوں سے دوچار رکھا گیا ہے ۔

آےۃ اللہ باقر النمر ایک امن پسند عالم دین ہیں جن کے خیالات نے دنیا کے بڑے حصے کو متاثر کر رکھا ہے کہ ’’ہم گولیوں پر نہیں حرف حق کی ہیبت دار للکار پر یقین رکھتے ہیں ،انصاف پر یقین رکھتے ہیں ،ہم آتش و آہن کی بات نہیں کرتے ،ہم اپنا نظریہ دوسروں پر مسلط کرنے پر یقین نہیں رکھتے ،ہم حق کی آواز کو گولی کے سیسہ سے زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں‘‘۔ایسے پرامن نظریات رکھنے والوں کی آواز دبانا دہشت گردوں کو ابھارنے کے مترادف ہے ۔

دنیا میں جس قدر بھی الہی نمائندگان مبعوث ہوتے رہے ان کا اولین مقصد عدل و انصاف کا قیام رہا ہے۔آج پوری دنیا میں عدل و انصاف کا فقدان ہے جس کے سبب ہر سو بحران ہی بحران ہے لہذا اقوام متحدہ، تمام سربراہان مملکت ،انسانی حقوق کے اداروں ،اسلامی تنظیموں سے پرزور اپیل ہے کہ سعودی عرب کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھی ہونے کی بنا پر انسانی حقوق کی پامالی کا لائسنس نہ دیا جائے کہ وہ جب چاہے بحرین میں انسانیت کی دھجیاں بکھیرے جب چاہے یمن پر دھاوا بول دے اور جب چاہے علی اعلان شام کے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرتا پھرے۔

اگر عالمی ادارے اور تمام ملک اگر دنیا میں امن کا قیام چاہتے ہیں تو سعودی عرب کو دنیا بھر کے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور فنڈنگ سے روکا جائے ،سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیا جائے ،آیت اللہ باقر النمر سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا جائے۔اگر خدانخواستہ باقر النمر کی صدائے حق کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی کوشش کی گئی اوران کی پھانسی کی سزا پر عمل ہو گیا تو مشرق وسطی بالخصوص اور عالم اسلام بالعموم ایسے انتشار کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کی زد سے شاید دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہ رہ سکے ۔


خاکپائے انسانیت
آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی
30نومبر2015