.
.

 
 

 

 

قَضِیَّہ احساس محرومی کا


تحریر:عباس کاظمی میڈیا کو آرڈینیٹر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ 

گذشتہ روز مذہبی سکالر عامر لیاقت حسین نے اپنے کالم میں ’’حج فارم کا قضیہ ‘‘ چھیڑا تو دل میں درد کی لہر اٹھنے لگی جس نے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔سابق وزیر مملکت مذہبی امور صاحب نے بہت سے ایسے معاملات کی وضاحت کی جن کی وضاحت بدقسمتی سے ہمارے شریف النفس وفاقی وزیر مذہبی امور اور امین وزیر مملکت نہ کرسکے ۔لہذا یہ مناسب جانا کہ ایسے دور میں جب لاؤڈ سپیکر کے استعمال پرپابندی کے سبب بڑوں بڑوں کی پگڑیاں اچھل رہی ہیں محترم عامر لیاقت حسین صاحب کے لاؤڈ سپیکر کا ہی استعمال کیا جائے ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ حج فارم میں کہیں یہ درج نہیں کہ ’’آپ شیعہ ہیں یا سنی ؟‘‘ بلکہ سوال یہ ہے کہ ’’کیا آپ شیعہ ہیں یانہیں؟‘‘۔یہ ایسا ہی ہے جیسے پاکستانی شہریت کے فارم میں کسی بھی قومیت کا پوچھنے کے بجائے صرف اتنا پوچھ لیا جائے ’’کیا آپ مہاجر ہیں ؟‘‘ پاکستان کے لئے اپنا گھر بار لٹانے والوں کاردعمل کیا ہوگا.....سمجھنا دشوار نہیں

ہمیں حج فارم کے اس کالم پر فقط اعتراض اتنا ہے کہ اگر سہولیات فراہم کرنے کیلئے ڈیٹا حاصل کرنا ہی مقصود ہے توایسا کیوں نہیں لکھا جاتا کہ آپ شافعی حنفی حنبلی مالکی جعفری اسماعیلی بوہری اہلحدیث میں سے کس فرقہ سے ہیں؟‘‘ کیونکہ عقائد میں معمولی اختلاف تو سب میں پایا جاتا ہے تو کیوں نہ ’’فعال وزارت‘‘ سب کو سہولیات فراہم کرے۔

جہاں تک رشتہ کی بات ہے تو وہاں شیعہ سنی نہیں بریلوی دیوبندی اہلحدیث اسماعیلی بوہری پنجابی ، سندھی ، مہاجروغیرہ سبھی کا پوچھا جاتا ہے 

کالم کے اسباب کی ایک وجہ یہ بتائی محرم سے 10دن قبل شیعہ حجاج کو عزاداری کیلئے اپنے علاقوں میں جانالازمی ہوتا ہے ۔ایسا ہر گز ضروری نہیں فقہ جعفری کے پیروکار اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرکے اپنے علاقوں کو چھوڑ کرہزاروں کی تعداد میں محرم کے دوران کربلا ،شام ،قم مقدس مشہد مقدس جاتے ہیں اور اسی طرح حجاج میں سے اکثر کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ عشرہ محرم مدینہ منورہ میں گزار کے خیر البشر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے پیارے نواسے کی شہادت کا پرسہ دے سکیں لیکن کسی ’’انجانے خوف ‘‘کے باعث ان سب حجاج کو محرم سے قبل واپس کردیا جاتا ہے ۔

سب سے بڑھ کر جو سوال حج فارم میں موجود ہے اس سے چھوت کا سا ’’احساس‘‘ ہو تا ہے جس کی وجہ ریاست کی جانب سے ملنے والی محرومیاں ہیں۔اور یہ احساس کیوں پیدا ہوا اس کی کئی وجوہات ہیں 

ابھی چند روز پہلے کی ہی بات ہے کہ وزارت مذہبی امور نے اسلام آباد میں اوقاف کے سرکاری ملازم شیعہ علماء کی تائید سے’’ یکساں نظام صلوۃ و اذان‘‘ کا تاریخی اعلان فرمایا۔کوئی ذی شعور یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ ممکن العمل ہے؟ لیکن محترم وزیر مذہبی امور نے امام کعبہ کے استقبال میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے اختلافی نوٹ کے باوجود یہ اعلان کیا اور تواتر کے ساتھ کیا۔کیا یہ اقدام ایک عقیدہ دوسرے پر مسلط کرنا نہیں ؟ جس کے سب سے بڑے وکیل ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ہیں ۔کیا فقہ جعفریہ کے پیروکار برادران اہلسنت سے چند منٹ قبل سحر اور غروب آفتاب سے 10منٹ بعد اذان و نماز اور افطار کا عقیدہ نہیں رکھتے ؟کیا یہ مکتب تشیع کے نظریات کو پامال کرنے کے مترادف نہیں۔

وطن عزیزمیں اسلامائزیشن کیلئے قائم کسی ادارے کا سربراہ آج تک کسی جعفری شیعہ کو نہیں بنایا گیا۔اسلامی نظریاتی کو نسل سیاسی سوادابازی کیلئے استعمال ہو رہی ہے ۔جو دو شیعہ ارکان کوئٹہ دھرنا اور گلگت بلتستان الیکشن ڈیل کے نتیجے میں شامل کئے گئے ۔ان کی اوقات کا اندازہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے نام ایک رکن کے لیٹر سے لگا سکتے ہیں۔(جو ساتھ attachہے )

فیڈرل شریعت کورٹ ،شریعت اپیلٹ بنچ میں شیعہ جج کی تقرری کا معاملہ ہی نہیں تمام یاستی اداروں میں محرومی کا یہی عالم نظر آتا ہے 

ایسا ہی معاملہ شیعہ اوقاف کے ساتھ بھی نظر آتا ہے اسلام آباد کے بانی سلطان الفقراء حضرت بری امام ؒ کے مزار کی لوح پر کندہ عبارات کو مٹانے اور چھپانے کیلئے جو حربے اختیار کئے گئے وہ ایک مکمل داستان ہے ۔

روزنامہ جنگ موقر ترین روزنامہ ہے لیکن آپ اس کا مذہبی ایڈیشن اٹھا کر دیکھ لیں آپ کوفقہ جعفریہ کا کوئی کارنر نظر نہیں آئے گا۔کیا فقہ جعفری توحید رسالت اخلاقیات معاملات کی اسلامی تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے کہ ان کا بھی کوئی مضمون چھپنے کے قابل ہو؟اور کیا فقہ جعفریہ کے لوگوں کو نکاح طلاق بنکنگ وغیرہ کے مسائل نہیں ہوتے کہ جنگ میں چھاپے جا سکیں؟

پاکستان کے نظریہ کی علمداری کے دعویدار اخبار نوائے وقت کا حال تو یہ ہے کہ چند سال پہلے ایک بار شدید بحث مباحثہ کے بعد امام جعفر صادق ؑ کی سیرت پر مضمون چھاپنے کیلئے تیار بھی ہوا توموسس فقہ جعفریہ امام جعفر صادق کے بارے میں مضمون کی پہلی قسط صفحہ کے سب سے نیچے چھاپی جبکہ اوپر تین مضامین صدیوں بعد کے اولیاء کے بارے میں تھے ۔آج تک اس مضمون کی دوسری قسط شائع نہیں ہو سکی ؟؟؟اگر سلسلہ نقشبندیہ ،قادریہ سہروردیہ کے اولین درجوں پر فائز امام جعفر صادقؑ کے ساتھ اس سلوک کو ایک شیعہ امام کے ساتھ تنگ نظری نہ سمجھا جائے تو کیا کیا جائے؟

برادر اسلامی ملک کے خوف کا یہ عالم ہے کہ رسول پاک کی جائے پیدائش ، صحابہ کرامؓ کے آثار،رسول کے اہلبیت و اجداد کی نشانیوں،جنت البقیع اور جنت المعلی کے مزارات کی مسماری کے خلاف آواز احتجاج بلند کرنے کیلئے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے لاکھوں کے جلوس بھی نکلیں تو روزنامہ جنگ بھی اس کی خبر کی ایک سطر شائع نہیں کر پاتا۔

میڈیا پردر اہلبیتؑ کے در کے گداگر ہونے پر فخر کرنے والے اولیائے کرام کے عرس کی خبریں تو آجاتی ہیں لیکن امام ابو حنیفہ ؒ کے استادامام جعفر صادقؑ ،امام شافعیؒ کی دعاؤں کی قبولیت کی سند امام موسی کاظم ؑ ،معروف کرخی ؒ کو کمال بخشنے والے امام رضا ؑ کی ولادت و شہادت کے پروگراموں کی خبریں شدید کوشش کے باوجود بھی نہیں آپاتیں۔الیکٹرانک میڈیا تو شاید ان ہستیوں سے آشنا بھی نہیں۔

عامر لیاقت حسین صاحب کی دینی فہم اور وسیع النظری اپنی جگہ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ تمام تر فہم و فراست کے باوجود وہ اپنے پروگراموں میں اکثر کالعدم تنظیموں کے لیڈران کو ساتھ بٹھائے نظر آتے ہیں ۔اپنے اقدامات کے ذریعے قوم کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کی کوشش کرنے والوں سے میڈیا پر امن کا ترانہ گوا لینا خود فرینی کے سوا کچھ نہیں۔ہماری اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اسلام کے دو چپمےئن مسلم ممالک کی پراکسی وار نے پورے عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کو اکھاڑہ بنا دیا ہے ۔ ان دونوں برادر مسلم ممالک کی پالیسیوں نے استعماری و صیہونی قوتوں کا کام آسان کردیاہے ۔ایک ملک 90سال سے اپنا عقیدہ برآمد کرنے کی کوشش کے باعث ساری دنیا میں اس شدت پسندی کا موجب بنا ہے کہ جس کے سبب لیبیا سے بحرین اور افغانستان پاکستان سے شام و عراق تک انبیاء اولیاء اہلبیت اطہار اور پاکیزہ صحابہ کے مزارات بارود سے اڑائے جارہے ہیں اور دوسرے ملک کے انقلاب برآمد کرنے کی خواہش نے بالخصوص خلیجی ریاستوں کو ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے ۔جبکہ درحقیقت ان دو ’’اسلامی چمپئین ‘‘ممالک کی وسعت قلبی کا یہ عالم ہے کہ حکومت کے خلاف لب کشائی کرنے والوں سے جیلیں بھری پڑی ہیں۔جو علماء ان دو مما لک کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے ہوں ہمارا میڈیا اینکرز انہیں شیعہ سنی نمائندہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے ۔

حال ہی میں جو حج قرعہ اندازی کی گئی ہے اس میں بھی بمشکل ایک یا دو فیصد اہل تشیع حجاج کا نام آسکا ہے بلکہ اکثر گروپ لیڈر بھی نام سے محروم رہ گئے ۔جب ملک میں اس طرح کا ماحول پیدا کر دیا جائے تو جن کا نام رہ گیا وہ لازماً یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ حج فارم مین یہ تخصیص رکھی ہی اسی لئے گئی ہے کہ جب چاہیں انہیں آؤٹ کردیا جائے الیکٹرانک قرعہ اندازی کے سافٹ وےئرز میں ایسی modification کرلینا چنداں مشکل نہیں ۔اس قسم کے گمان اور شکوک کے ازالے کیلئے وزارت مذہبی امور کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور سب کو اعتماد میں لینا ہوگا اگر ایسا ہو جائے تو محترم عامر لیاقت حسین صاحب کو بھی وضاحتیں نہیں کرنا پڑیں گی۔
ریاست کی جانب سے ملنے والی تمام تر محرومیوں کے باوجود ہمارا ایمان ہی نہیں یہ زمینی حقیقت بھی ہے کہ پاکستان میں کوئی فرقہ واریت نہیں تمام مکاتب باہم شیرو شکر ہیں ان کا اٹھنا بیٹھناکاروبار رشتے ناطے سانجھے خوشیاں غم سانجھے ہیں ۔ضیاء دور میں مذہبی جلوسوں پویس ایکٹ 30(3)کے اطلاق کے ذریعے پابندی کے خلاف جب تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے حسینی محاذ ایجی ٹیشن کا آغاز کیا تو تمام مکاتب فکر نے ان کا ساتھ دیا،اہل تشیع و اہل سنت نے 14ہزار رضاکارانہ گرفتاریاں دے کر جیلیں بھر دیں اور بالآخر 21مئی 85کے ’’جونیجو موسوی معاہدے‘‘ کے تحت میلاد النبی ؐ و عزاداری کے جلوسوں پر سے پابندی کا خاتمہ ہوا۔جو سنی شیعہ یکجہتی کی علامت بن کر تاریخ میں زندہ رہے گا۔

مکاتب قومیتوں اور ظلم کا شکار طبقات کی محرومیوں کے زخموں پر مرہم لگانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگر ان کا علاج نہ کیا گیا تو نفرتیں بیچ کر دھرنے سجانے والے اور آگ لگا کر بیرونی ممالک سے مال بنانے والے عناصر ان زخموں کو’’ ناسور‘‘بنانے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہیں جنہیں ناکام بنانے کیلئے قوم وملک سے درد رکھنے والوں کو آگے آناہوگا۔

آخری بات !محترم عامر لیاقت صاحب آپ کو وزارت مذہبی امور کی وکالت بھی یاد رہی سعودی عرب سے عشق میںآپ نے اپنے حقوق کیلئے لڑنے والے یمن کے حوثیوں کو اپنے کالموں میں باغی بھی قرار دیا اسے ریال کی چمک کہا جائے بادشاہوں سے پیار یا عالم اسلام کا درد؟(اگر عالم اسلام کا درد ہوتا تو مصر کی جمہوری حکومت گرانے کیلئے جرنیل سیسی پر اربوں ڈالر وارنے والے بادشاہوں کوباغی کیوں قرار نہ دیا؟؟؟؟) ۔

افسوس عامر لیاقت صاحب آپ عاشق رسول ؐہونے کا دعوی تو کرتے ہیں امہات المومنینؓ صحابہؓ اور اہلبیتؑ کا نام بھی جپتے ہیں لیکن کبھی آپ کو سعودی عرب میں جنت البقیع جنت المعلی کے مقامات مقدسہ کی پامالی نظر نہ آئی رسولؐ کی جائے پیدائش مسمار کرکے بادشاہوں کی گرزگاہ بنانا بھی آپ نہ دیکھ سکے۔۔۔ان مظالم پر آپ کی خاموشی ہمیشہ آپ کے کردار پر سوالیہ نشان رہے گی ۔